سولر صارفین کیلئے بڑا دھچکا: سولر پالیسی پر حکومت نے یوٹرن لے لیا
02-11-2026
(لاہور نیوز) شمسی توانائی کے حوالے سے حکومتی پالیسی ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہے۔
دو برس قبل حکومت نے سولرائزیشن کو سراہتے ہوئے عوام کو شمسی توانائی اپنانے کی ترغیب دی، تاہم صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافے کے بعد نئی پالیسی کو عوام دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی 2015 میں لاہور سمیت ملک بھر میں متعارف کروائی گئی تھی، جون 2024 تک ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار تھی، سال 2024 کے بعد موجودہ حکومت کی جانب سے سولرائزیشن کی حوصلہ افزائی کی گئی جس کے نتیجے میں جون 2025 تک نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی، فروری 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 4 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ صرف لیسکو میں ایک لاکھ 30 ہزار نیٹ میٹرنگ کنکشنز موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق انتہائی مہنگی بجلی اور درجن سے زائد ٹیکسز نے عوام کو سولر سسٹم لگانے پر مجبور کیا، غریب اور متوسط طبقے نے بھی اپنی جمع پونجی خرچ کر کے چھوٹے پیمانے پر سولر سسٹمز نصب کروائے تاکہ بجلی کے بڑھتے بلوں سے نجات حاصل کی جا سکے۔ تاہم نیپرا کے حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد لیسکو نے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے صارفین سے نئے معاہدے کئے جا رہے ہیں جبکہ بعض شقوں کا اطلاق پرانے صارفین پر بھی ہو گا، پہلے سے نیٹ میٹرنگ کنکشن رکھنے والے صارفین کو بھی نئے طریقہ کار کے تحت بل جاری کئے جائیں گے۔ نئی پالیسی کے تحت امپورٹ یونٹس کے بدلے ایکسپورٹ یونٹس کے تبادلے کا نظام ختم کر دیا گیا ہے، پرانے کنکشنز پر ایکسپورٹ یونٹس کی قیمت 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے جبکہ امپورٹ یونٹس ٹیرف ریٹ کے مطابق وصول کئے جائیں گے، یوں یونٹ کے بدلے یونٹ کا طریقہ ختم کر کے مالی بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔