جمعے کی نماز کے دوران حملہ افسوس ناک، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں: عطا تارڑ

02-07-2026

(لاہور نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جمعے کی نماز کے دوران مسلمانوں پر حملہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ان کا واحد مقصد بدامنی پھیلانا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور ملزمان کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، دہشتگردوں کا وہاں تک تعاقب کیا جائے گا جہاں تک ان کی سوچ بھی نہیں جاتی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت نے پیغامِ امن کمیٹی قائم کی ہے جس میں ہر مذہبی مکتبہ فکر کے نمائندے شامل ہیں، دہشتگرد اب کمزور ہو چکے ہیں، اسی لیے مضافاتی علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں، ترلائی حملہ آور کے بارے میں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ افغانستان جا چکا تھا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے سکیورٹی امور پر بات ہوئی ہے اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد پولیس ناصر رضوی کا کزن بھی اس واقعہ میں شہید ہوا ہے جبکہ پولیس فورس پوری دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن ایک حکومت نے دہشتگردوں کو دوبارہ لا کر بسایا۔ عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں اور اب بھی انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملے کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔