پاک آسٹریلیا ٹی 20: بابر اعظم کا متنازع آؤٹ، ناقص امپائرنگ پر سوالات اٹھنے لگے
01-31-2026
(ویب ڈیسک) پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ناقص امپائرنگ پر سوالات اٹھنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق 29 جنوری کو کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بابر اعظم کے ایل بی ڈبلیو فیصلے پر ٹی وی امپائرنگ نے شائقین کرکٹ کو شدید مایوسی اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اس متنازع لمحے میں بابر اعظم نے ریورس شاٹ کھیلنے کے لیے گیند پڑنے سے پہلے اپنا اسٹانس تبدیل کیا اور بائیں ہاتھ کے بلے باز بن گئے۔ تاہم گیند ان کے پیڈ پر لگی اور ری پلے میں یہ واضح دکھائی دے رہا تھا کہ امپیکٹ لائن میں تھا اور گیند آف سائیڈ پر پچ ہوئی تھی۔ اس کے باوجود ٹی وی امپائر نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ گیند لیگ سائیڈ پر پچ ہوئی تھی، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ گراؤنڈ امپائر نے ان کی تصحیح کی اور بتایا کہ یہ دائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں جس پر انہوں نے دوبارہ بال ٹریکنگ کو چیک کیا اور بابر کو آؤٹ قرار دے دیا۔ امپائر کے اس فیصلے پر ایک جانب سوالات اٹھے تو دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے امپائرنگ کے معیار کا مذاق بھی اڑایا۔ واضح رہے کہ ریورس ہٹ یا ریورس سوئپ کھیلتے وقت ایل بی ڈبلیو کا قانون اکثر شائقین کو الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ کرکٹ کے قوانین کے مطابق آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ کا تعین اس لمحے کیا جاتا ہے جب بولر اپنا رن اَپ شروع کرتا ہے، نہ کہ اس وقت جب بلے باز شاٹ کھیلتا ہے۔ آئی سی سی کے قوانین کے تحت اگر کوئی بلے باز بعد میں اپنا اسٹانس بدل کر ریورس ہٹ کھیلتا ہے تو ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کے لیے نئی آف سائیڈ نہیں دیکھی جاتی۔ یعنی جو سائیڈ شروع میں لیگ سائیڈ تھی، وہی ایل بی ڈبلیو کے قانون میں برقرار رہتی ہے۔ اسی لیے اگر گیند پیڈ پر لگے اور وہ اسٹمپس کی طرف جا رہی ہو تو بلے باز آؤٹ دیا جا سکتا ہے، چاہے وہ گیند ظاہری طور پر ’آف اسٹمپ کی لائن‘ سے باہر کیوں نہ لگی ہو۔ یعنی ریورس شاٹس میں ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ بلے باز کے بعد میں بدلے گئے اسٹانس پر نہیں بلکہ اس کے اصل اسٹانس پر کیا جاتا ہے۔