3 لاکھ فی ایکڑ لاگت والی آلو کی فصل کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگی

01-31-2026

(ویب ڈیسک) ملک بھر میں آلو کی گرتی قیمتوں نے کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ آڑھتیوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

لاکھوں روپے لاگت سے تیار ہونے والی آلو کی فصل محض 40 سے 50 ہزار روپے میں بھی فروخت نہیں ہو پا رہی، جس کے باعث کسان قرضوں تلے دب گئے ہیں اور نئی فصل کی کاشت بھی خطرے میں پڑ گئی۔ کاشتکاروں کے مطابق آلو کی فی ایکڑ پیداوار پر ڈھائی سے تین لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس فصل کا کوئی خریدار موجود نہیں، افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند ہونے کے باعث آلو کی ایکسپورٹ رک گئی ہے، جس سے پنجاب میں آلو کی فصل منڈیوں میں پڑی رہ گئی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ پیداوار کے باعث کولڈ سٹوریج میں آلو رکھنا بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں آلو کی فصل اٹھائی ہی نہیں جا رہی، اس صورتحال کے باعث اگلی فصل کی کاشت میں بھی تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آڑھتیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں وہ اور کولڈ سٹوریج مالکان کسانوں سے سستا آلو خرید کر ذخیرہ کر لیتے تھے اور بعد میں صارفین کو 100 سے 150 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ 10 روپے فی کلو میں بھی آلو خریدنے والا کوئی نہیں۔ دوسری جانب محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال آلو کی پیداوار زیادہ ہوئی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ آلو برآمد کیا جائے تاکہ کسانوں کو ریلیف مل سکے، کولڈ سٹوریج مالکان کے مطابق جن کاشتکاروں  نے آلو ذخیرہ کر رکھا تھا، وہ بھی اب لینے نہیں آ رہے، جس پر مجبوراً آلو جانوروں کے چارے کے طور پر انتہائی کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ آلو کے کاشتکاروں  نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آلو کی ایکسپورٹ کیلئے راستے کھولے جائیں اور کسانوں کی مدد کی جائے، بصورت دیگر نئی فصل اگانا ممکن نہیں رہے گا اور زرعی شعبہ مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔