حکومت پنجاب کا متروکہ املاک کے سالوں سے زیر التوا مقدمات فوری نمٹانے کا فیصلہ
01-30-2026
(لاہور نیوز) حکومتِ پنجاب نے متروکہ املاک سے متعلق سالوں سے زیر التوا مقدمات کے فوری حل کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے نیا ترمیمی مسودہ قانون متعارف کرا دیا ہے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں مسودہ قانون (ترمیم/تنسیخ) برائے متروکہ املاک و بے گھر افراد 2026 پیش کیا گیا، جس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
مسودہ قانون کے تحت متروکہ املاک و بے گھر افراد ایکٹ 1975 میں ترامیم کی جائیں گی۔ مجوزہ قانون کے مطابق زیر التوا کارروائیوں کو تیز رفتار بنیادوں پر نمٹانے کے لیے فل بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جو 90 دن کے اندر مقدمات کے فیصلے کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ان فیصلوں پر ایک سال کے اندر عملدرآمد لازم قرار دیا گیا ہے۔ مسودہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ فل بورڈ کے فیصلوں پر کسی عدالت یا کسی اتھارٹی کو احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ فل بورڈ کے اکثریتی فیصلے کو حتمی تصور کیا جائے گا۔ فل بورڈ کے ممبران کی تعیناتی حکومتِ پنجاب کرے گی، جبکہ ایک نگران بھی مقرر کیا جائے گا جو لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوگا۔ نگران کی تعیناتی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بورڈ آف ریونیو کرے گا۔ نگران یہ طے کرے گا کہ 1975 کے ایکٹ کے تحت کون سی کارروائیاں زیر التوا تصور کی جائیں گی۔ مسودہ قانون کے مطابق مدعی کو مکمل سماعت کا حق حاصل ہوگا اور بغیر سنے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکے گا۔ سماعت کے دوران فل بورڈ کو سول عدالت جیسے اختیارات حاصل ہوں گے اور فل بورڈ کو باقاعدہ عدالت تصور کیا جائے گا۔ فل بورڈ میں ہونے والی سماعت کو عدالتی کارروائی سمجھا جائے گا، تاہم سول عدالت کو فل بورڈ کے فیصلوں پر کارروائی کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ مزید کہا گیا ہے کہ نیک نیتی میں کیے گئے فیصلوں پر فل بورڈ یا حکومتِ پنجاب کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔ مسودہ قانون کو دو ماہ کے لیے متعلقہ اسمبلی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی رپورٹ کے بعد مسودہ قانون پنجاب اسمبلی سے منظور کیا جائے گا، جس کے بعد اس کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔