عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پرانڈر گراؤنڈ پارکنگ پراجیکٹ روک دیا
01-30-2026
لاہور:(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ،عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈر گراؤنڈ پارکنگ پراجیکٹ کو روک دیا۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مین ہول میں ماں بیٹی کے گر کر جاں بحق ہونے پر بہت افسوس ہے،عدالتی حکم کے باوجود پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی نہ روکنے پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کانوٹس جاری کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔عدالت کو ماحولیاتی کمیشن کے ممبرز سید کمال حیدر اور میاں عرفان اکرم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باجوہ پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کی گئی جو توہین عدالت کے مترداف ہے۔ دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے داتا صاحب کے اطراف سے درختوں کو کاٹنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ درختوں کی جان تو لے رہے تھے، اب ایک ماں اور ننھی بچی کی جان لے لی ہے،دو روز قبل ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت افسوسناک سانحہ ہوا ہے۔ عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈر گراؤنڈ پارکنگ پراجیکٹ کو روکتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ دوران سماعت عدالت نے پنجاب یونیورسٹی سے درختوں کی کٹائی پر اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی پی ایچ اے نے اب تک کیا کیا ہے ایک میٹنگ نہیں کی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ، پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی پر ڈی جی پی ایچ اے کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا مگر پی ایچ اے کا رول نظر نہیں آیا۔ عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی والا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھی بھیجیں گے۔ عدالت نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو بھی عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 2فروری تک سماعت ملتوی کردی۔