لاہور جنرل ہسپتال میں زائد المعیاد ادویات کی موجودگی کا انکشاف
01-29-2026
(لاہور نیوز) چلڈرن ہسپتال کے بعد لاہور جنرل ہسپتال میں زائدالمعیاد ادویات اور بدانتظامی کے سنگین انکشافات سامنے آ گئے۔
وزیراعلیٰ اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے اچانک دورے کے دوران تیار کی گئی رپورٹ میں ہسپتال کی مجموعی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور جنرل ہسپتال میں زائدالمعیاد ڈرپس پائی گئیں جبکہ دل کی دھڑکن اور دمہ کے علاج میں استعمال ہونے والے انجیکشنز بھی ایکسپائر نکلے، مریضوں کو ضروری ادویات کی عدم دستیابی کے باعث بازار سے مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ہسپتال میں شوگر، بلڈ پریشر، ذہنی امراض، اینٹی بائیوٹکس، مرگی اور دیگر بیماریوں کی متعدد ادویات دستیاب نہیں تھیں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مریضوں کو بعض اوقات ڈاکٹر کے نسخے کے برعکس ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ مریضوں سے آپریشن کیلئے درکار سامان، انجیکشنز اور طبی آلات باہر سے منگوائے جاتے ہیں جبکہ لیبارٹری سہولیات ناکافی ہونے کے باعث مریض نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہسپتال میں کئی ڈاکٹرز اور نرسز ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے، او پی ڈی، آئی کلینک اور ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، ایک مریضہ گزشتہ ایک ماہ سے آپریشن کی منتظر ہے تاہم متعلقہ سرجن دستیاب نہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے وارڈز میں ایک بستر پر تین مریض لیٹے پائے گئے جبکہ گائنی وارڈ میں تعینات گارڈز کی جانب سے کم از کم پانچ سو روپے رشوت مانگنے کی شکایات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ ہسپتال میں صفائی کی صورتحال بھی انتہائی ابتر پائی گئی، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، گندی چادریں اور ناقابلِ استعمال واش رومز مریضوں اور تیمارداروں کیلئے اذیت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ وزیراعلیٰ کی جانب سے معاملے کا سخت نوٹس لینے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔