لاہور ہائیکورٹ: پٹرول پمپس ڈی سیل کرنے کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
01-26-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے حفاظتی اقدامات اور لائسنس کے بغیر چلنے والے پیٹرول پمپس کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی.
جسٹس راحیل کامران شیخ نے پیٹرول پمپس کی بندش کے خلاف دائر 10 مختلف درخواستوں پر سماعت کی، پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان پیش ہوئے۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ اس کیس میں پہلے وفاق دلائل دے گا یا صوبہ؟ جس پر اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عثمان خان نے کہا کہ پیٹرول پمپس کی سیلنگ کے لیے ڈپٹی کمشنر کے اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے لہٰذا عدالت اگر مناسب سمجھے تو صوبائی حکومت کو پہلے دلائل دینے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے لاء افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فارم ’کے‘, اور لائسنس کے معاملات پر بھی آپ ہی دلائل دیں، جس پر لاء افسر عثمان خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی کاروبار کو لائسنس کے تحت ریگولیٹ کرے۔ پیٹرولیم ایکٹ کے مطابق بغیر لائسنس کوئی بھی پیٹرول پمپ نہیں چلایا جا سکتا جبکہ پیٹرولیم رولز کے تحت بغیر لائسنس پیٹرول پمپ کو پیٹرول فراہم کرنا بھی جرم ہے، درخواست گزاروں کا یہ مؤقف کہ وہ بغیر لائسنس پیٹرول فروخت کر رہے تھے اور اسی بنیاد پر ان کا کاروبار سیل کیا گیا، دراصل ان کے جرم کا اعتراف ہے۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے سوال کیا کہ اگر کسی نے لائسنس کے لیے اپلائی کر رکھا ہو تو کیا وہ کاروبار کر سکتا ہے؟ اس پر اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عثمان خان نے جواب دیا کہ جب بغیر لائسنس پیٹرول کی فراہمی ہی ممکن نہیں تو کاروبار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عدالتی نظیریں موجود ہیں جن کے مطابق فارم “کے” کے بغیر پیٹرول پمپ نہیں چلایا جا سکتا، درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ لائسنس کے لیے درخواست دی جا چکی ہے، اس لیے پیٹرول پمپس ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ پیٹرول پمپ ڈی سیل کر کے شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جن قانونی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کے مطابق غیر لائسنس یافتہ پیٹرول پمپ نہیں چلایا جا سکتا، عدالت نے ہدایت کی کہ اگر کسی درخواست گزار کے پاس لائسنس موجود ہے تو وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس درخواست کے ساتھ پیش ہو، عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر سات روز کے اندر ان درخواستوں پر فیصلہ کرے گا، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔