مصنوعی ذہانت کا کمال، اب فالج کے مریض بھی بول سکیں گے
01-22-2026
(ویب ڈیسک) کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید پہننے کے قابل کالر تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے فالج کے مریضوں کو دوبارہ اپنی قدرتی آواز میں بولنے کے قابل بناتا ہے۔
اس ڈیوائس کا نام ReVoice رکھا گیا ہے، جو پہننے والے کے سپِیچ سگنلز اور جذباتی اشاروں کو ڈی کوڈ کر کے ٹوٹے اور غیر واضح الفاظ کو دوبارہ قابلِ فہم آواز میں تبدیل کرتی ہے، اس طرح فالج کے مریض قدرتی انداز میں روزمرہ کی گفتگو کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ جدید کالر موجودہ اسسٹیو سپیچ ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں نمایاں بہتری پیش کرتا ہے، کیونکہ روایتی ٹیکنالوجیز یا تو محدود نتائج دیتی ہیں یا خطرناک دماغی امپلانٹس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر لوئیگی اوچی پنٹی نے کہا کہ فالج کے مریض اکثر کچھ جملے یا مشقیں دہرا سکتے ہیں، لیکن روزمرہ کی قدرتی گفتگو میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، چونکہ زیادہ تر مریض وقت کے ساتھ اپنی بولنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں، اس لئے پیچیدہ دماغی امپلانٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔ پروفیسر اوچی پنٹی کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے جو استعمال میں آسان، فطری اور پورٹ ایبل ہو، اور ReVoice AI کالر اس مقصد کے لئے ایک اہم پیش رفت ہے۔