نشے کی حالت میں ڈرائیونگ؛ سخت سزا کا بل قومی اسمبلی میں پیش

01-22-2026

(ویب ڈیسک) نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

یہ ترمیمی بل ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن، پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ اور رکن قومی اسمبلی ارشد عبداللہ وہرا کی جانب سے پیش کیا گیا۔ بل کے متن کے مطابق نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے دوران حادثے کی صورت میں ڈرائیور پر "قتلِ خطا بوجہ نشہ آور جرم" لاگو ہو گا، نشے میں حادثے کے مرتکب شخص کو دس سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ مزید کہا گیا ہے کہ ہر ایسا حادثہ جس میں موت یا شدید جسمانی چوٹ واقع ہو، اس صورت میں تھانے کا انچارج یا تفتیشی افسر، جو سب انسپکٹر کے عہدے سے کم نہ ہو، بغیر کسی تاخیر کے ملوث ڈرائیور کے نشے میں ہونے کا پتا لگانے کیلئے سانس، خون یا تھوک کا ٹیسٹ کرانے کا پابند ہو گا۔ بل کے مطابق اگر ٹیسٹ میں ڈرائیور کے نشے میں ہونے کی تصدیق ہو جائے تو انچارج پولیس افسر ایف آئی آر تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کرے گا، نشے میں ہونے کی تصدیق کی صورت میں ڈرائیور کے خلاف دفعہ 322 یا 302 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔