پنجاب یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی درخت کٹائی، ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں کا انکشاف
01-21-2026
(لاہور نیوز) لاہور کی تاریخی اور سرسبز جامعہ پنجاب میں مبینہ طور پر درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا سنگین معاملہ سامنے آ گیا۔
اطلاعات کے مطابق شیخ زاید اسلامک سینٹر کے احاطے میں درخت کاٹے گئے جو ماحولیاتی قوانین اور یونیورسٹی پالیسیوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق درختوں کی کٹائی کے بعد ٹمبر مافیا کی جانب سے لکڑی سمگل کرنے کی کوشش کی گئی، کٹے ہوئے درخت ٹریکٹر ٹرالی میں بھر کر لے جائے جا رہے تھے، تاہم بروقت کارروائی کے نتیجے میں ٹریکٹر ٹرالی کو تحویل میں لے لیا گیا، اگرچہ اس سے قبل درختوں کا قتلِ عام ہو چکا تھا جس سے ناقابلِ تلافی قدرتی نقصان پہنچا۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) نے درختوں کی کٹائی رکوانے اور لکڑی ضبط کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے، پی ایچ اے کی جانب سے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو فوری کارروائی کیلئے باضابطہ مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ مراسلے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ درخت کٹائی اور لکڑی سمگلنگ میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، پی ایچ اے نے واضح کیا ہے کہ اجازت کے بغیر درختوں کی کٹائی یا تراش خراش بھی ناقابلِ قبول ہے اور پیشگی منظوری کے بغیر کسی قسم کی کٹائی نہیں ہو سکتی۔ پی ایچ اے کے نوٹیفکیشن میں جامعہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اور مستقل اقدامات کئے جائیں، ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سبز کیمپس میں درختوں کی کٹائی ماحولیاتی تحفظ پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔