ججز کیخلاف سوشل میڈیا مہم پر سخت نوٹس، پی ٹی اے کو تضحیک آمیز مواد ہٹانے کا حکم

01-15-2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز اور غیر مناسب مواد کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت کی ہے کہ فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رجوع کر کے ایسا مواد فوری طور پر ہٹوایا جائے، عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دفاتر پاکستان میں ہونے چاہئیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ججز کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، پی ٹی اے کے وکیل بیرسٹر چوہدری عمر اور درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ ججز کے فیصلوں پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن کسی بھی جج کی ذاتی زندگی پر تضحیک آمیز پروپیگنڈا ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، بیرون ملک بیٹھ کر ججز کی کردار کشی کرنے والے عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور پاکستان میں موجود ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ دورانِ سماعت آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو اب این سی سی آئی اے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور مستقبل میں کسی بھی شہری کے خلاف غیر مناسب مواد شیئر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ایک مشترکہ پورٹل ہونا چاہیے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر غیر مناسب مواد یا توہینِ عدالت کو بلاک کر سکیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ یہ معاملہ وفاقی نوعیت کا ہے تاہم پنجاب حکومت این سی سی آئی اے اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مکمل تعاون کر رہی ہے اور ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی کی شدید مذمت کرتی ہے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار کی اجازت دیتا ہے مگر توہینِ عدالت اور غیر مناسب مواد شیئر کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں، انہوں نے این سی سی آئی اے کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کارروائی انتقامی نہ ہو، مگر قانون شکنی کرنے والوں کو چھوڑا بھی نہیں جا سکتا۔ عدالت نے پولیس اور این سی سی آئی اے کو سائبر قوانین اور سوشل میڈیا کے درست استعمال سے متعلق آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔ درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تاحال پی ٹی اے نے ججز کے خلاف غیر مناسب مواد اپ لوڈ کرنے پر نہ کوئی چینل بلاک کیا اور نہ ہی کوئی ویب سائٹ، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی اے کیوں سو رہا ہے؟ پی ٹی اے کے وکیل بیرسٹر چوہدری عمر نے عدالت کو بتایا کہ 53 اداروں کو پی ٹی اے پورٹل استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہے اور فیس بک و ایکس جیسی محفوظ ایپلیکیشنز کو مکمل بلاک کیا جا سکتا ہے تاہم انفرادی مواد ہٹانے کے لیے متعلقہ پلیٹ فارمز کو درخواست دی جاتی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے بتایا کہ اب تک 170 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جا چکی ہے جو ججز کے خلاف غیر مناسب مواد شیئر کرنے میں ملوث پائے گئے، نادرا کی مدد سے 14 ملزمان کو ٹریس کر لیا گیا ہے جبکہ لاہور میں 3 اور ملتان میں 5 مقدمات درج ہو چکے ہیں، بیرون ملک سے اپ لوڈ ہونے والی ویڈیوز کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بیرون ملک بیٹھ کر غیر مناسب مواد بنانے والوں کے خلاف بھی پاکستان میں کارروائی ہو سکتی ہے، ویڈیوز کے ذرائع کو ٹریس کیا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ ان عناصر کے پیچھے کون ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔