لاہور میں ٹریفک مسائل برقرار، بنیادی سٹڈی مکمل نہ ہو سکی

01-10-2026

(لاہور نیوز) اربوں روپے کے میگا ترقیاتی منصوبوں کے باوجود لاہور میں ٹریفک مسائل جوں کے توں ہیں۔

سڑکوں کی توسیع، فلائی اوورز اور انڈر پاسز تو تعمیر ہوتے رہے، مگر ان منصوبوں کی بنیاد بننے والا سائنسی ڈیٹا آج تک دستیاب نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) کو برسوں قبل شہر بھر کی ٹریفک ڈیٹا کلیکشن، انٹرسیکشن سٹڈی اور ٹوپوگرافک سروے کا ٹاسک دیا گیا تھا، تاہم یہ عمل تاحال التوا کا شکار ہے۔ دستاویزات کے مطابق ٹیپا کو شہر کے 140 اہم انٹرسیکشنز پر ٹریفک کاؤنٹ اور تجزیے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، مگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا، نتیجتاً سڑکوں کے جیومیٹرک ڈیزائن میں تبدیلی، لین مینجمنٹ اور سگنل ٹائمنگ جیسے فیصلے بغیر مکمل سٹڈی کے کئے جاتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں اس وقت 80 ارب روپے سے زائد لاگت کے ترقیاتی منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، جن کا مقصد ٹریفک دباؤ کم کرنا ہے، لیکن ان منصوبوں کی بنیاد یعنی مستند ٹریفک ڈیٹا ہی موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیٹا کے بغیر کئے گئے منصوبے وقتی سہولت تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر دیرپا حل ثابت نہیں ہوتے۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک لاہور کی مکمل ٹریفک انٹرسیکشن سٹڈی، ٹریفک فلو اینالیسز اور ٹوپوگرافک سروے نہیں کئے جاتے، اس وقت تک مہنگے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔