پتنگ بازی کو محفوظ بنانے کیلئے رجسٹریشن، چار مختلف کیٹیگریز کے فارم جاری

01-08-2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کو محفوظ اور منظم بنانے کیلئے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے پتنگ اور ڈور تیار کرنے والوں، فروخت کنندگان اور کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا۔

اس اقدام کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور غیر قانونی و خطرناک پتنگ بازی کی روک تھام ہے۔ محکمہ انتظامیہ کے مطابق پتنگ اور ڈور سازوں، فروخت کنندگان اور ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کیلئے چار مختلف کیٹیگریز کے فارم جاری کئے گئے ہیں، فارم “اے” پتنگ سازوں اور ڈور بنانے والوں کی رجسٹریشن کیلئے مختص ہو گا۔ رجسٹرڈ افراد کو سرکاری سرٹیفکیٹ فارم “بی” کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جس پر کیو آر کوڈ درج ہو گا، یہی کیو آر کوڈ پتنگوں اور ڈور پر لگانا لازمی ہو گا، فارم “بی” سے حاصل کیا جانے والا کیو آر کوڈ پتنگ و ڈور فروشوں کے پینا فلیکسز اور دکانوں پر بھی نمایاں طور پر درج کرنا ہو گا، جبکہ فارم “بی” سرٹیفکیٹ دکان کے اندر نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ ضابطہ کار کے مطابق پتنگ کا سائز 30 انچ لمبائی اور 34 انچ چوڑائی سے زیادہ نہیں ہو گا، جبکہ گڈے کی لمبائی 34 انچ اور چوڑائی 40 انچ سے زائد نہیں ہو سکے گی، ڈور صرف کاٹن سے تیار کردہ دھاگے سے بنائی جائے گی، جس میں نو سے زائد تاریں شامل نہیں ہوں گی۔ مانجا کی تیاری میں گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کے استعمال کی اجازت ہو گی، تاہم تیز مانجا، تندی، دھاتی تار اور کیمیکل کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، ڈور کیلئے صرف پنے کی اجازت ہو گی جبکہ چرخی بنانے پر پابندی ہو گی۔ کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کیلئے فارم “سی” اور فارم “ڈی” مختص کئے گئے ہیں، رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں بسنت کے انتظامات میں معاونت کریں گی۔ محکمہ انتظامیہ کے مطابق پتنگ اور ڈور کے سائز، مواد اور معیار کو شیڈول ون کے مطابق سختی سے نافذ کیا جائے گا، ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف رجسٹریشن منسوخی کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بسنت کو ایک محفوظ، منظم اور خوشگوار تہوار کے طور پر منانا ہے، جہاں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کا خدشہ نہ ہو۔