اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا ایک اور سکینڈل سامنے آ گیا

01-06-2026

(لاہور نیوز) اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے دوران سرکاری اراضی کے حصول اور متاثرہ عمارتوں کی دوبارہ تعمیر میں مبینہ غفلت کے سنگین انکشافات سامنے آ گئے۔

دستاویزات کے مطابق اورنج لائن منصوبے کیلئے پاکستان پوسٹ کے زیر استعمال 14.43 کنال اراضی ایکوائر کی گئی، تاہم اس اراضی پر موجود درجنوں فلیٹس اور گھروں کو منہدم کرنے کے بعد آج تک دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا، ایڈورڈ روڈ پر موجود 76 فلیٹس میں سے 64 فلیٹس مکمل طور پر منہدم کر دیئے گئے جبکہ 12 فلیٹس جزوی طور پر نقصان زدہ ہوئے۔ اسی طرح ملتان روڈ پر 9 فلیٹس اور ایک بنگلہ بھی اورنج لائن منصوبے کیلئے حاصل کیا گیا، ذرائع کے مطابق جزوی طور پر متاثرہ فلیٹس کو صرف معمولی مرمت اور ری نوویشن کی ضرورت تھی، مگر اس کے باوجود انہیں بھی بحال نہیں کیا گیا۔ یہ فلیٹس گزشتہ دس سال سے تعمیر نہ ہونے کے باعث شہری اور متعلقہ ادارہ شدید نقصان کا شکار ہیں، اورنج لائن کی تعمیر کے دوران شہریوں اور سرکاری اداروں کی جائیداد کو نقصان پہنچنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جس  نے منصوبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔